Breaking News

Year: 2026

No image

تحریر:احمد شیر اعوان پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے بعد ایک بنیادی سوال شدت سے سامنے آ رہا ہے کہ اگر ایک ہی ادارہ ناجائز منافع خوری کی روک تھام، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی، پیٹرول پمپوں کی جانچ، بھٹہ خشت کی مانیٹرنگ، ریونیو ریکوری، صفائی ستھرائی کی نگرانی، تجاوزات کے خلاف کارروائی، ناجائز قابضین سے اراضی واگزار کرانے، مختلف قوانین پر عمل درآمد اور متعدد دیگر انتظامی ذمہ داریاں انجام دے گا تو پھر وہ محکمے کس مقصد کے لیے موجود رہیں گے جنہیں ماضی میں انہی فرائض کی انجام دہی کے لیے قائم کیا گیا تھاحکومت کے اپنے اعلانات کے مطابق پیرا فورس کو مرحلہ وار پورے پنجاب میں پھیلایا جا رہا ہے اور اس کی نفری تقریباً 8,000 سے 8,500 اہلکاروں تک رکھی جا رہی ہے، جبکہ صوبے بھر میں 156 انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس قدر وسیع ڈھانچے کی تشکیل یقیناً مالی وسائل، گاڑیوں، دفاتر، تنخواہوں، تربیت، ایندھن، مرمت اور دیگر انتظامی اخراجات کی متقاضی ہے۔ ایسے میں عوام یہ سوال پوچھنے میں حق رکھتے ہیں کہ کیا اس نئے انتظامی ڈھانچے پر اربوں روپے خرچ نہیں ہوں گے، اور اگر ہوں گے تو اس کی طویل المدتی مالی منصوبہ بندی کیا ہےاصل مسئلہ نئے ادارے بنانے کا نہیں بلکہ پہلے سے موجود اداروں کی کارکردگی کا ہے۔ اگر تجاوزات کے خاتمے کے لیے دیگر ادارے موجود ہیں قیمتوں کی نگرانی کے لیے انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کا نظام موجود ہے، پیٹرول پمپوں کی جانچ کے لیے متعلقہ ریگولیٹری ادارے اور ضلعی حکام موجود ہیں، اور قبضہ واگزار کرانے کے لیے ریونیو اور پولیس کا باقاعدہ نظام موجود ہے، تو پھر ان محکموں کو فعال اور جواب دہ بنانے کے بجائے ایک اور بڑا ادارہ کھڑا کرنا کیا انتظامی اصلاح ہے یا محض اختیارات کی ازسرِ نو تقسیم ہےیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات نئے ادارے ابتدا میں بہتر نتائج دیتے ہیں کیونکہ ان پر خصوصی توجہ، وسائل اور نگرانی موجود ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں پرانے محکمے مزید غیر فعال ہو جائیں، ان کے افسران اور اہلکار عملی ذمہ داریوں سے دور ہو جائیں اور کام کرنے کی روایت کمزور پڑ جائے تو طویل مدت میں ریاستی نظام مزید پیچیدہ اور مہنگا ہو سکتا ہے۔اگر آج ہر مشکل کام یا دیگر نئی فورسز کے سپرد کر دیا جائے تو متعلقہ محکموں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کیسے برقرار رہے گی کیا ان کی ذمہ داری صرف فائلوں پر دستخط کرنا اور سرکاری وسائل استعمال کرنا رہ جائے گی ایک مضبوط ریاست کی پہچان نئے اداروں کی کثرت نہیں بلکہ موجودہ اداروں کی مؤثر کارکردگی، احتساب اور باہمی ہم آہنگی ہوتی ہے۔اسی تناظر میں قانون نافذ کرنے والے خصوصی یونٹس، جیسے سی سی ڈی اور پیرا فورس کے کردار پر بھی سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ اگر ان اداروں کو وسیع اختیارات اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں تو عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے قیام سے پہلے موجود محکموں کی اصلاح، احتساب اور استعداد کار بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے کیا مسائل کی جڑ نااہلی اور بدانتظامی تھی یا اداروں کی کمی دوسری جانب پنجاب کی معیشت کا ایک اہم ستون زراعت ہے۔ کسان پہلے ہی مہنگی کھاد، بجلی، ڈیزل، پانی اور دیگر پیداواری اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ عام شہری مہنگائی اور محدود آمدنی کے باعث دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ریاست اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے صحت، تعلیم، زراعت اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں کو اولین حیثیت دے گی۔اگر حکومت واقعی دیرپا بہتری چاہتی ہے تو ضروری ہے کہ ہر ادارے کو اس کے اصل مینڈیٹ کے مطابق مؤثر، جواب دہ اور شفاف بنایا جائے۔ نئے اداروں کا قیام بعض مواقع پر ناگزیر ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ پرانے محکمے غیر فعال نہ ہوں اور اختیارات کی غیر ضروری نقل و حرکت سے انتظامی انتشار پیدا نہ ہو۔عوام کو صرف نئے نام نئی وردیاں یا نئی گاڑیاں نہیں چاہئیں انہیں ایسے نتائج درکار ہیں جن سے مہنگائی میں کمی آئے قانون کی حکمرانی مضبوط ہو سرکاری وسائل کی بچت ہو اور ریاستی ادارے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ادا کریں۔ یہی طرزِ حکمرانی عوام کے اعتماد کو مضبوط اور قومی وسائل کے بہتر استعمال کی ضمانت بن سکتی ہے۔

Read more