Breaking News

تحریر:احمد شیر اعوان پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے بعد ایک بنیادی سوال شدت سے سامنے آ رہا ہے کہ اگر ایک ہی ادارہ ناجائز منافع خوری کی روک تھام، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی، پیٹرول پمپوں کی جانچ، بھٹہ خشت کی مانیٹرنگ، ریونیو ریکوری، صفائی ستھرائی کی نگرانی، تجاوزات کے خلاف کارروائی، ناجائز قابضین سے اراضی واگزار کرانے، مختلف قوانین پر عمل درآمد اور متعدد دیگر انتظامی ذمہ داریاں انجام دے گا تو پھر وہ محکمے کس مقصد کے لیے موجود رہیں گے جنہیں ماضی میں انہی فرائض کی انجام دہی کے لیے قائم کیا گیا تھاحکومت کے اپنے اعلانات کے مطابق پیرا فورس کو مرحلہ وار پورے پنجاب میں پھیلایا جا رہا ہے اور اس کی نفری تقریباً 8,000 سے 8,500 اہلکاروں تک رکھی جا رہی ہے، جبکہ صوبے بھر میں 156 انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس قدر وسیع ڈھانچے کی تشکیل یقیناً مالی وسائل، گاڑیوں، دفاتر، تنخواہوں، تربیت، ایندھن، مرمت اور دیگر انتظامی اخراجات کی متقاضی ہے۔ ایسے میں عوام یہ سوال پوچھنے میں حق رکھتے ہیں کہ کیا اس نئے انتظامی ڈھانچے پر اربوں روپے خرچ نہیں ہوں گے، اور اگر ہوں گے تو اس کی طویل المدتی مالی منصوبہ بندی کیا ہےاصل مسئلہ نئے ادارے بنانے کا نہیں بلکہ پہلے سے موجود اداروں کی کارکردگی کا ہے۔ اگر تجاوزات کے خاتمے کے لیے دیگر ادارے موجود ہیں قیمتوں کی نگرانی کے لیے انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کا نظام موجود ہے، پیٹرول پمپوں کی جانچ کے لیے متعلقہ ریگولیٹری ادارے اور ضلعی حکام موجود ہیں، اور قبضہ واگزار کرانے کے لیے ریونیو اور پولیس کا باقاعدہ نظام موجود ہے، تو پھر ان محکموں کو فعال اور جواب دہ بنانے کے بجائے ایک اور بڑا ادارہ کھڑا کرنا کیا انتظامی اصلاح ہے یا محض اختیارات کی ازسرِ نو تقسیم ہےیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات نئے ادارے ابتدا میں بہتر نتائج دیتے ہیں کیونکہ ان پر خصوصی توجہ، وسائل اور نگرانی موجود ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں پرانے محکمے مزید غیر فعال ہو جائیں، ان کے افسران اور اہلکار عملی ذمہ داریوں سے دور ہو جائیں اور کام کرنے کی روایت کمزور پڑ جائے تو طویل مدت میں ریاستی نظام مزید پیچیدہ اور مہنگا ہو سکتا ہے۔اگر آج ہر مشکل کام یا دیگر نئی فورسز کے سپرد کر دیا جائے تو متعلقہ محکموں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کیسے برقرار رہے گی کیا ان کی ذمہ داری صرف فائلوں پر دستخط کرنا اور سرکاری وسائل استعمال کرنا رہ جائے گی ایک مضبوط ریاست کی پہچان نئے اداروں کی کثرت نہیں بلکہ موجودہ اداروں کی مؤثر کارکردگی، احتساب اور باہمی ہم آہنگی ہوتی ہے۔اسی تناظر میں قانون نافذ کرنے والے خصوصی یونٹس، جیسے سی سی ڈی اور پیرا فورس کے کردار پر بھی سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ اگر ان اداروں کو وسیع اختیارات اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں تو عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے قیام سے پہلے موجود محکموں کی اصلاح، احتساب اور استعداد کار بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے کیا مسائل کی جڑ نااہلی اور بدانتظامی تھی یا اداروں کی کمی دوسری جانب پنجاب کی معیشت کا ایک اہم ستون زراعت ہے۔ کسان پہلے ہی مہنگی کھاد، بجلی، ڈیزل، پانی اور دیگر پیداواری اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ عام شہری مہنگائی اور محدود آمدنی کے باعث دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ریاست اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے صحت، تعلیم، زراعت اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں کو اولین حیثیت دے گی۔اگر حکومت واقعی دیرپا بہتری چاہتی ہے تو ضروری ہے کہ ہر ادارے کو اس کے اصل مینڈیٹ کے مطابق مؤثر، جواب دہ اور شفاف بنایا جائے۔ نئے اداروں کا قیام بعض مواقع پر ناگزیر ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ پرانے محکمے غیر فعال نہ ہوں اور اختیارات کی غیر ضروری نقل و حرکت سے انتظامی انتشار پیدا نہ ہو۔عوام کو صرف نئے نام نئی وردیاں یا نئی گاڑیاں نہیں چاہئیں انہیں ایسے نتائج درکار ہیں جن سے مہنگائی میں کمی آئے قانون کی حکمرانی مضبوط ہو سرکاری وسائل کی بچت ہو اور ریاستی ادارے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ادا کریں۔ یہی طرزِ حکمرانی عوام کے اعتماد کو مضبوط اور قومی وسائل کے بہتر استعمال کی ضمانت بن سکتی ہے۔

June 22, 2026

Detail News

No image

تحریر:احمد شیر اعوان پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے بعد ایک بنیادی سوال شدت سے سامنے آ رہا ہے کہ اگر ایک ہی ادارہ ناجائز منافع خوری کی روک تھام، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی، پیٹرول پمپوں کی جانچ، بھٹہ خشت کی مانیٹرنگ، ریونیو ریکوری، صفائی ستھرائی کی نگرانی، تجاوزات کے خلاف کارروائی، ناجائز قابضین سے اراضی واگزار کرانے، مختلف قوانین پر عمل درآمد اور متعدد دیگر انتظامی ذمہ داریاں انجام دے گا تو پھر وہ محکمے کس مقصد کے لیے موجود رہیں گے جنہیں ماضی میں انہی فرائض کی انجام دہی کے لیے قائم کیا گیا تھاحکومت کے اپنے اعلانات کے مطابق پیرا فورس کو مرحلہ وار پورے پنجاب میں پھیلایا جا رہا ہے اور اس کی نفری تقریباً 8,000 سے 8,500 اہلکاروں تک رکھی جا رہی ہے، جبکہ صوبے بھر میں 156 انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس قدر وسیع ڈھانچے کی تشکیل یقیناً مالی وسائل، گاڑیوں، دفاتر، تنخواہوں، تربیت، ایندھن، مرمت اور دیگر انتظامی اخراجات کی متقاضی ہے۔ ایسے میں عوام یہ سوال پوچھنے میں حق رکھتے ہیں کہ کیا اس نئے انتظامی ڈھانچے پر اربوں روپے خرچ نہیں ہوں گے، اور اگر ہوں گے تو اس کی طویل المدتی مالی منصوبہ بندی کیا ہےاصل مسئلہ نئے ادارے بنانے کا نہیں بلکہ پہلے سے موجود اداروں کی کارکردگی کا ہے۔ اگر تجاوزات کے خاتمے کے لیے دیگر ادارے موجود ہیں قیمتوں کی نگرانی کے لیے انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کا نظام موجود ہے، پیٹرول پمپوں کی جانچ کے لیے متعلقہ ریگولیٹری ادارے اور ضلعی حکام موجود ہیں، اور قبضہ واگزار کرانے کے لیے ریونیو اور پولیس کا باقاعدہ نظام موجود ہے، تو پھر ان محکموں کو فعال اور جواب دہ بنانے کے بجائے ایک اور بڑا ادارہ کھڑا کرنا کیا انتظامی اصلاح ہے یا محض اختیارات کی ازسرِ نو تقسیم ہےیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات نئے ادارے ابتدا میں بہتر نتائج دیتے ہیں کیونکہ ان پر خصوصی توجہ، وسائل اور نگرانی موجود ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں پرانے محکمے مزید غیر فعال ہو جائیں، ان کے افسران اور اہلکار عملی ذمہ داریوں سے دور ہو جائیں اور کام کرنے کی روایت کمزور پڑ جائے تو طویل مدت میں ریاستی نظام مزید پیچیدہ اور مہنگا ہو سکتا ہے۔اگر آج ہر مشکل کام یا دیگر نئی فورسز کے سپرد کر دیا جائے تو متعلقہ محکموں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کیسے برقرار رہے گی کیا ان کی ذمہ داری صرف فائلوں پر دستخط کرنا اور سرکاری وسائل استعمال کرنا رہ جائے گی ایک مضبوط ریاست کی پہچان نئے اداروں کی کثرت نہیں بلکہ موجودہ اداروں کی مؤثر کارکردگی، احتساب اور باہمی ہم آہنگی ہوتی ہے۔اسی تناظر میں قانون نافذ کرنے والے خصوصی یونٹس، جیسے سی سی ڈی اور پیرا فورس کے کردار پر بھی سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ اگر ان اداروں کو وسیع اختیارات اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں تو عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے قیام سے پہلے موجود محکموں کی اصلاح، احتساب اور استعداد کار بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے کیا مسائل کی جڑ نااہلی اور بدانتظامی تھی یا اداروں کی کمی دوسری جانب پنجاب کی معیشت کا ایک اہم ستون زراعت ہے۔ کسان پہلے ہی مہنگی کھاد، بجلی، ڈیزل، پانی اور دیگر پیداواری اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ عام شہری مہنگائی اور محدود آمدنی کے باعث دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ریاست اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے صحت، تعلیم، زراعت اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں کو اولین حیثیت دے گی۔اگر حکومت واقعی دیرپا بہتری چاہتی ہے تو ضروری ہے کہ ہر ادارے کو اس کے اصل مینڈیٹ کے مطابق مؤثر، جواب دہ اور شفاف بنایا جائے۔ نئے اداروں کا قیام بعض مواقع پر ناگزیر ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ پرانے محکمے غیر فعال نہ ہوں اور اختیارات کی غیر ضروری نقل و حرکت سے انتظامی انتشار پیدا نہ ہو۔عوام کو صرف نئے نام نئی وردیاں یا نئی گاڑیاں نہیں چاہئیں انہیں ایسے نتائج درکار ہیں جن سے مہنگائی میں کمی آئے قانون کی حکمرانی مضبوط ہو سرکاری وسائل کی بچت ہو اور ریاستی ادارے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ادا کریں۔ یہی طرزِ حکمرانی عوام کے اعتماد کو مضبوط اور قومی وسائل کے بہتر استعمال کی ضمانت بن سکتی ہے۔

Read more

Leave for the far world of grammar

Even the all-powerful Pointing has no control about the blind texts it is an almost unorthographic life One day however a small line of blind text by the name of Lorem Ipsum decided to leave for the far World of Grammar. The Big Oxmox advised her not to do so, because there were thousands of…

Read more

She packed her seven versalia

She packed her seven versalia, put her initial into the belt and made herself on the way. When she reached the first hills of the Italic Mountains, she had a last view back on the skyline of her hometown Bookmarksgrove, the headline of Alphabet Village and the subline of her own road, the Line Lane….

Read more

Drag & Drop WordPress Theme

All the sections in the homepage can be rearrange as you want. There is a simple drag and drop feature comes that will makes it easy to rearrange the sections. No technical knowledge require.

Read more

A small river named Duden flows

Even the all-powerful Pointing has no control about the blind texts it is an almost unorthographic life One day however a small line of blind text by the name of Lorem Ipsum decided to leave for the far World of Grammar. The Big Oxmox advised her not to do so, because there were thousands of…

Read more

On her way she met a copy

Even the all-powerful Pointing has no control about the blind texts it is an almost unorthographic life One day however a small line of blind text by the name of Lorem Ipsum decided to leave for the far World of Grammar. The Big Oxmox advised her not to do so, because there were thousands of…

Read more

Multiple Layout Options

A number of such two-sided contests may be arranged in a tournament producing a champion. Many sports leagues make an annual champion by arranging games in a regular sports season, followed in some cases by playoffs. Hundreds of sports exist, from those between single contestants, through to those with hundreds of simultaneous participants, either in…

Read more

5 Header & 3 Slider Options

5 Header Options With Magazine Newspaper Pro theme you will get 5 different header options that you can easily select from Header Options in the Customizer. 3 Slider Options Magazine Newspaper Pro offers you 3 different slider option layout for your website. You can simple select the slider as you want from Theme Options ->…

Read more